Ahmad Education Foundation

Ahmad Education Foundation Ahmad Education Foundation
0 81.846311

no images yet

SHARE WITH OTHERS
See new updates

Ahmad Education Foundation

Latest Updates

____________________________________
*میں اندھا ہوں مگر اندھا نہیں ہوں*
========================

ایک شخص نے ایک خوبصورت لڑکی سے شادی کرلی، بہت محبت کرتا تھا اپنی بیوی سے، مگر ایک دن اس لڑکی کو جِلد(skin) کی کوئی بیماری لگ گئی جس سے اسکی خوبصورتی روز بروز گھٹتی جارہی تھی۔

ایک دن اسکا شوہر کسی سفر پہ نکلا، واپس آتے ہوئے اسے حادثہ پیش ایا جس میں اسکی دونوں آنکھیں جاتی رہیں۔ خیر انکی ازدواجی زندگی یونہی چلتی رہی اور اسکی بیوی کی خوبصورتی مزید گھٹتی رہی مگر اندھے آدمی کو اس بات کا علم نہیں تھا لہذا انکی زندگی پر اسکا کوئی اثر بھی نہ پڑا، دونوں ایک دوسرے کو پہلے کی طرح چاہتے تھے اور ایکدوسرے کا خیال رکھتے رہے۔

خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک دن اس لڑکی کا انتقال ہوگیا، اسکا شوہر نہایت غمگین تھا اس صدمے سے، جسکے باعث اس نے اپنا سب کچھ فروخت کر ڈالا اور اس شہر کو چھوڑ کر کسی دوسرے شہر جانے لگا۔

جاتے ہوئے راستے میں ایک شخص نے پیچھے سے آواز دی اور کہنے لگا "اکیلے کیسے جاوگے؟ اب تک تو آپکی بیوی آپکی مدد کرتی رہی، آپکا خیال رکھتی رہی اور آپکی آنکھیں بنی رہی۔
اندھے آدمی نے جواباً کہا: "میں اندھا نہیں تھا، مگر اسے ایسے دکھا رہا تھا جیسے میں اندھا ہوں۔ کیونکہ اگر اسے یہ پتہ ہوتا کہ میں اسکی بدصورتی دیکھ سکتا ہوں، تو یہ احساس اسے اسکی بیماری سے زیادہ تکلیف دیتا۔ اسلئے میں نے اندھے ہونے کا ڈرامہ کیا۔ وہ بہت اچھی بیوی تھی، میں بس اسے خوش رکھنا چاہتا تھا۔

اس واقعے کو بیان کرنے کا مقصد اس سے سبق حاصل کرنا تھا، کہ کبھی کبھی ہمیں کسی کی غلطیوں پہ اندھا بننا چاہیئے، انکی غلطیوں یا خامیوں کو نظرانداز کرنا چاہیئے تاکہ ایک خوشحال زندگی گزار سکیں، کہ مخلوق کوئی بھی کامل نہیں مگر صرف خالق۔
لہذا رشتے کی مضبوطی کا باعث کسی کی کاملیت نہیں بلکہ رشتے کی مضبوطی کا راز اس بات میں ہے کہ ہم اپنوں کو انکی تمام تر خامیوں اور غلطیوں کیساتھ دل سے قبول کرلیں۔
اللہ پاک ہم سبکو عمل کی توفیق رفیق عطا فرمائے... آمین

   Over a month ago
SEND

____________________________________
*میں اندھا ہوں مگر اندھا نہیں ہوں*
========================

ایک شخص نے ایک خوبصورت لڑکی سے شادی کرلی، بہت محبت کرتا تھا اپنی بیوی سے، مگر ایک دن اس لڑکی کو جِلد(skin) کی کوئی بیماری لگ گئی جس سے اسکی خوبصورتی روز بروز گھٹتی جارہی تھی۔

ایک دن اسکا شوہر کسی سفر پہ نکلا، واپس آتے ہوئے اسے حادثہ پیش ایا جس میں اسکی دونوں آنکھیں جاتی رہیں۔ خیر انکی ازدواجی زندگی یونہی چلتی رہی اور اسکی بیوی کی خوبصورتی مزید گھٹتی رہی مگر اندھے آدمی کو اس بات کا علم نہیں تھا لہذا انکی زندگی پر اسکا کوئی اثر بھی نہ پڑا، دونوں ایک دوسرے کو پہلے کی طرح چاہتے تھے اور ایکدوسرے کا خیال رکھتے رہے۔

خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک دن اس لڑکی کا انتقال ہوگیا، اسکا شوہر نہایت غمگین تھا اس صدمے سے، جسکے باعث اس نے اپنا سب کچھ فروخت کر ڈالا اور اس شہر کو چھوڑ کر کسی دوسرے شہر جانے لگا۔

جاتے ہوئے راستے میں ایک شخص نے پیچھے سے آواز دی اور کہنے لگا "اکیلے کیسے جاوگے؟ اب تک تو آپکی بیوی آپکی مدد کرتی رہی، آپکا خیال رکھتی رہی اور آپکی آنکھیں بنی رہی۔
اندھے آدمی نے جواباً کہا: "میں اندھا نہیں تھا، مگر اسے ایسے دکھا رہا تھا جیسے میں اندھا ہوں۔ کیونکہ اگر اسے یہ پتہ ہوتا کہ میں اسکی بدصورتی دیکھ سکتا ہوں، تو یہ احساس اسے اسکی بیماری سے زیادہ تکلیف دیتا۔ اسلئے میں نے اندھے ہونے کا ڈرامہ کیا۔ وہ بہت اچھی بیوی تھی، میں بس اسے خوش رکھنا چاہتا تھا۔

اس واقعے کو بیان کرنے کا مقصد اس سے سبق حاصل کرنا تھا، کہ کبھی کبھی ہمیں کسی کی غلطیوں پہ اندھا بننا چاہیئے، انکی غلطیوں یا خامیوں کو نظرانداز کرنا چاہیئے تاکہ ایک خوشحال زندگی گزار سکیں، کہ مخلوق کوئی بھی کامل نہیں مگر صرف خالق۔
لہذا رشتے کی مضبوطی کا باعث کسی کی کاملیت نہیں بلکہ رشتے کی مضبوطی کا راز اس بات میں ہے کہ ہم اپنوں کو انکی تمام تر خامیوں اور غلطیوں کیساتھ دل سے قبول کرلیں۔
اللہ پاک ہم سبکو عمل کی توفیق رفیق عطا فرمائے... آمین

   Over a month ago
SEND